وحدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا جرير ، عن بيان ، عن وبرة ، قال: سال رجل ابن عمر رضي الله عنهما: اطوف بالبيت وقد احرمت بالحج؟، فقال: وما يمنعك؟، قال: إني رايت ابن فلان يكرهه، وانت احب إلينا منه، رايناه قد فتنته الدنيا، فقال: واينا او ايكم لم تفتنه الدنيا، ثم قال: " راينا رسول الله صلى الله عليه وسلم احرم بالحج، وطاف بالبيت وسعى بين الصفا والمروة، فسنة الله وسنة رسوله صلى الله عليه وسلم احق ان تتبع من سنة فلان إن كنت صادقا ".
وبرہ نے کہا کہ ایک شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ میں طواف کروں بیت اللہ کا اور میں نے حج کا احرام باندھا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ طواف سے تم کو کون روک سکتا ہے انہوں نے کہا کہ میں نے فلانے کے فرزند کو دیکھا (یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما کو) کہ وہ اس کو مکروہ جانتے ہیں اور آپ ان سے زیادہ ہمارے پیارے ہیں اور میں ان کو دیکھتا ہوں کہ دنیا نے ان کو غافل کر دیا ہے تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہم میں اور تم میں کون ایسا ہے جس کو دنیا نے غافل نہیں کیا۔ پھر کہا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ انہوں نے حج کا احرام باندھا اور بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ میں سعی کی اور سنت اللہ کی اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہتر ہے تابعداری کے لیے فلانے کی سنت سے اگر تو سچا ایمان دار ہے۔