كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

وحدثنا محمد بن رمح ، اخبرنا الليث . ح وحدثنا قتيبة واللفظ له، حدثنا ليث ، عن نافع ، ان ابن عمر اراد الحج عام نزل الحجاج بابن الزبير، فقيل له: إن الناس كائن بينهم قتال، وإنا نخاف ان يصدوك، فقال: " لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة، اصنع كما صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم، إني اشهدكم اني قد اوجبت عمرة "، ثم خرج حتى إذا كان بظاهر البيداء، قال: ما شان الحج والعمرة إلا واحد اشهدوا، قال ابن رمح: اشهدكم اني قد اوجبت حجا مع عمرتي واهدى هديا اشتراه بقديد، ثم انطلق يهل بهما جميعا حتى قدم مكة، فطاف بالبيت وبالصفا والمروة ولم يزد على ذلك، ولم ينحر ولم يحلق ولم يقصر ولم يحلل من شيء حرم منه، حتى كان يوم النحر فنحر وحلق، وراى ان قد قضى طواف الحج والعمرة بطوافه الاول، وقال ابن عمر: كذلك فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم "،

‏‏‏‏ نافع سے وہی مضمون مروی ہوا جو کئی بار اوپر گزرا اتنی بات زیادہ ہے کہ جب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مکہ میں آئے تو حج اور عمرہ دونوں کی لبیک پکارتے تھے اور بیت اللہ اور صفا مروہ کا ایک ہی بار طواف کیا۔ اور نہ قربانی کی اور نہ سر منڈایا، نہ بال کترائے اور نہ کسی چیز کو حلال کیا جن کو احرام کے سبب سے حرام کیا تھا۔ یہاں تک کہ نحر کا دن ہوا (یعنی دسویں تاریخ ذی الحجہ کی) اور قربانی کی اور سر منڈایا۔ اور خیال کیا کہ حج اور عمرہ کو وہی طواف اول کافی ہو گیا۔ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ایسا ہی کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔

صحيح مسلم # 2992
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp