كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

وحدثنا يحيى بن يحيى ، قال: قرات على مالك ، عن نافع ، ان عبد الله بن عمر رضي الله عنهما خرج في الفتنة معتمرا، وقال: إن صددت عن البيت صنعنا كما صنعنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فخرج فاهل بعمرة، وسار حتى إذا ظهر على البيداء التفت إلى اصحابه، فقال: " ما امرهما إلا واحد: اشهدكم اني قد اوجبت الحج مع العمرة "، فخرج حتى إذا جاء البيت طاف به سبعا، وبين الصفا والمروة سبعا، لم يزد عليه، وراى انه مجزئ عنه واهدى.

‏‏‏‏ نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نکلے ایام فتنہ میں عمرے کو اور کہا: اگر میں روکا گیا بیت اللہ سے تو ویسا ہی کریں گے جیسا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں کیا تھا، پھر نکلے عمرہ کا احرام کر کے یہاں تک کہ بیداء پہنچے (جہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لبیک اکثر صحابہ رضی اللہ عنہم نے سنی تھی حجتہ الوداع میں) اپنے یاروں سے کہا کہ حج اور عمرہ کا حکم ایک ہی ہے کہ دونوں سے اہلال کر سکتے ہیں تو میں تم کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر حج بھی عمرہ کے ساتھ واجب کر لیا اور چلے یہاں تک کہ بیت اللہ پہنچے اور وہاں سات بار طواف کیا اور سات بار صفا اور مروہ کے بیچ میں سعی کی اور اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا۔ اور اسی کو کافی سمجھا اور قربانی کی۔

صحيح مسلم # 2989
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp