كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

وحدثني وحدثني عبيد الله بن معاذ ، حدثنا ابي ، حدثنا شعبة ، عن حميد بن هلال ، عن مطرف ، قال: قال لي عمران بن حصين : " احدثك حديثا عسى الله ان ينفعك به، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم جمع بين حجة وعمرة، ثم لم ينه عنه حتى مات ولم ينزل فيه قرآن يحرمه، وقد كان يسلم علي حتى اكتويت، فتركت ثم تركت الكي فعاد "،

‏‏‏‏ مطرف نے کہا کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تم سے ایک حدیث بیان کروں شاید اللہ عزوجل تم کو فائدہ بخشے اور وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ جمع کیا اور پھر اس سے منع نہ فرمایا یہاں تک کہ آپ فوت ہو گئے اور نہ اس میں کوئی قرآن کی آیت اتری جس سے ان کا جمع کرنا حرام ہوتا اور ہمیشہ میرے لیے سلام فرمایا جاتا تھا جب تک میں نے داغ نہیں لیا تھا پھر جب داغ لیا تو سلام موقوف ہو گیا پھر میں نے داغ لینا چھوڑ دیا تو پھر سلام ہونے لگا مجھ سے۔

صحيح مسلم # 2974
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp