وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وعمرو الناقد جميعا، عن ابن عيينة ، قال عمرو: حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو ، سمع محمد بن جبير بن مطعم يحدث، عن ابيه جبير بن مطعم ، قال: " اضللت بعيرا لي فذهبت اطلبه يوم عرفة، فرايت رسول الله صلى الله عليه وسلم واقفا مع الناس بعرفة، فقلت: والله إن هذا لمن الحمس، فما شانه هاهنا وكانت قريش تعد من الحمس ".
جبیر بن مطعم نے کہا کہ میرا ایک اونٹ کھو گیا اور اس کی تلاش کو نکلا عرفہ کے دن تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں عرفات میں، تو میں نے کہا کہ اللہ کی قسم! یہ تو حمس کے لوگ ہیں ان کو کیا ہوا جو یہاں تک آ گئے (یعنی قریش تو مزدلفہ سے آگے نہیں آتے تھے) اور قریش حمس میں شمار کیے جاتے تھے (جو لوگ مزدلفہ سے باہر نہ جاتے تھے)۔