كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

وحدثنا ابو كريب ، حدثنا ابو اسامة ، حدثنا هشام ، عن ابيه ، قال: " كانت العرب تطوف بالبيت عراة إلا الحمس والحمس قريش، وما ولدت كانوا يطوفون عراة إلا ان تعطيهم الحمس ثيابا، فيعطي الرجال الرجال والنساء النساء، وكانت الحمس لا يخرجون من المزدلفة، وكان الناس كلهم يبلغون عرفات "، قال هشام: فحدثني ابي، عن عائشة رضي الله عنها، قالت: " الحمس هم الذين انزل الله عز وجل فيهم: ثم افيضوا من حيث افاض الناس سورة البقرة آية 199، قالت: كان الناس يفيضون من عرفات وكان الحمس يفيضون من المزدلفة يقولون: لا نفيض إلا من الحرم، فلما نزلت افيضوا من حيث افاض الناس سورة البقرة آية 199 رجعوا إلى عرفات ".

‏‏‏‏ ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی کہ عرب طواف کرتے تھے بیت اللہ کا ننگے مگر حمس اور حمس قریش ہیں اور ان کی اولاد، غرض لوگ ننگے طواف کرتے تھے مگر جب کہ قریش ان کو کپڑے دے دیتے تھے سو مرد مردوں کو اور عورتیں عورتوں کو کپڑے دیا کرتی تھیں اور حمس مزدلفہ سے باہر نہ جاتے اور سب لوگ عرفات تک جاتے۔ ہشام نے کہا: میرے باپ نے مجھے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہی مضمون فرمایا جو ابھی اوپر گزرا اتنی بات زیادہ ہے کہ جب آیت مذکورہ اتری تو سب عرفات جانے لگے۔

صحيح مسلم # 2955
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp