كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

حدثنا ابن نمير ، حدثني ابي ، حدثنا عبد الملك بن ابي سليمان ، عن عطاء ، عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما، قال: اهللنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالحج، فلما قدمنا مكة امرنا ان نحل ونجعلها عمرة، فكبر ذلك علينا وضاقت به صدورنا، فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم، فما ندري اشيء بلغه من السماء ام شيء من قبل الناس، فقال: " ايها الناس احلوا، فلولا الهدي الذي معي، فعلت كما فعلتم "، قال: فاحللنا حتى وطئنا النساء، وفعلنا ما يفعل الحلال، حتى إذا كان يوم التروية، وجعلنا مكة بظهر اهللنا بالحج.

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ لبیک پکاری ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کی، پھر جب ہم مکہ میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ احرام کھول ڈالیں اور اس احرام کو عمرہ کر ڈالیں (یعنی حج کو عمرہ کر کے فسخ کریں) اور یہ بات ہم پر گراں گزری اور ہمارے سینے اس سے تنگ ہوئے اور یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی، پھر ہم نہیں جانتے کہ آیا ان کو کوئی حکم آسمان سے آیا یا کوئی بات لوگوں سے پہنچی۔ غرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! احرام کھول ڈالو اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی وہی کرتا جو تم نے کیا ہے۔ (یعنی عمرہ کر کے حج کو فسخ کرتا اور احرام کھول ڈالتا) تب تو ہم نے احرام کھول ڈالا یہاں تک کہ صحبت کی ہم نے عورتوں سے اور سب کام کیے جو بغیر احرام والے کرتے ہیں (یعنی خوشبو لگائی، سئیے ہوئے کپڑے پہنے، جماع کیا) پھر جب آٹھویں تاریخ ہوئی اور مکہ سے ہم نے پیٹھ موڑی (یعنی منیٰ کو چلے) حج کا لبیک پکارا۔

صحيح مسلم # 2944
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp