وحدثني ابو غسان المسمعي ، حدثنا معاذ يعني ابن هشام ، حدثني ابي ، عن مطر ، عن ابي الزبير ، عن جابر بن عبد الله ، ان عائشة رضي الله عنها في حجة النبي صلى الله عليه وسلم اهلت بعمرة، وساق الحديث بمعنى حديث الليث، وزاد في الحديث، قال: " وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا سهلا إذا هويت الشيء تابعها عليه، فارسلها مع عبد الرحمن بن ابي بكر فاهلت بعمرة من التنعيم "، قال مطر: قال ابو الزبير: فكانت عائشة إذا حجت صنعت كما صنعت مع نبي الله صلى الله عليه وسلم.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے روایت کی کہ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج میں احرام عمرہ کا باندھا تھا اور حدیث روایت ہے مانند حدیث لیث کے اور اتنا زائد بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نرم دل تھے، جب ان سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کچھ فرمائش کرتی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مان لیتے تھے (یہ کمال اخلاق تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ اپنی بیبیوں کی خاطر داری فرماتے تھے اور ان کی فرمائشیں پوری کر دیتے تھے جب تک اللہ پاک کی نافرمانی نہ ہو اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خاطر تو سب سے زیادہ تھی اللہ پاک ان کا درجہ بلند کرے اعلیٰ علیین میں اور ان سے راضی ہو اور ہم کو ان کی کفش برداری میں قبول فرمائے آمین یا رب العالمین) غرض بھیج دیا ان کو عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ اور وہ تنعیم سے عمرہ لائیں مطر جو راوی ہیں انہوں نے ابوالزبیر سے روایت کی کہ انہوں نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حج کرتی تھیں تو ویسا ہی کرتی تھیں جیسا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں کیا تھا۔