حدثنا قتيبة بن سعيد ، ومحمد بن رمح جميعا، عن الليث بن سعد ، قال قتيبة: حدثنا ليث، عن ابي الزبير ، عن جابر رضي الله عنه، انه قال: اقبلنا مهلين مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بحج مفرد، واقبلت عائشة رضي الله عنها بعمرة، حتى إذا كنا بسرف عركت، حتى إذا قدمنا طفنا بالكعبة والصفا والمروة، فامرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يحل منا من لم يكن معه هدي، قال: فقلنا: حل ماذا؟، قال: " الحل كله "، فواقعنا النساء وتطيبنا بالطيب ولبسنا ثيابنا، وليس بيننا وبين عرفة إلا اربع ليال، ثم اهللنا يوم التروية، ثم دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم على عائشة رضي الله عنها فوجدها تبكي، فقال: " ما شانك؟ "، قالت: شاني اني قد حضت، وقد حل الناس ولم احلل، ولم اطف بالبيت والناس يذهبون إلى الحج الآن، فقال: " إن هذا امر كتبه الله على بنات آدم فاغتسلي، ثم اهلي بالحج "، ففعلت ووقفت المواقف، حتى إذا طهرت طافت بالكعبة والصفا والمروة ثم قال: " قد حللت من حجك وعمرتك جميعا "، فقالت: يا رسول الله إني اجد في نفسي اني لم اطف بالبيت حتى حججت، قال: " فاذهب بها يا عبد الرحمن فاعمرها من التنعيم "، وذلك ليلة الحصبة،
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آئے ہم احرام باندھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج مفرد میں (شاید ان کا اور بعض صحابہ کا احرام ایسا ہی ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو قارن تھے) اور آئیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عمرہ کے احرام کے ساتھ یہاں تک کہ جب سرف میں پہنچے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئیں۔ پھر جب ہم مکہ میں آئے طواف کیا کعبہ کا اور صفا اور مروہ کا اور حکم کیا ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس کے ساتھ ہدی (قربانی) نہ ہو وہ احرام کھول ڈالے ہم نے کہا: کیسا حلال ہونا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بالکل حلال ہو جانا۔“ تو پھر ہم نے احرام بالکل کھول دیا۔ کہا راوی نے کہ پھر ہم پڑ گئے عورتوں کے پاس (یعنی دھڑلے سے جماع کرنے لگے) اور خوشبو لگائی اور کپڑے پہنے اور ہمارے اور عرفہ میں چار شب کا فرق باقی تھا۔ پھر ترویہ کے دن (یعنی آٹھویں تاریخ کی ذوالحجہ کی احرام باندھا یعنی حج کا) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس اور ان کو روتے ہوئے پایا۔ پوچھا: ”کیوں کیا حال ہے تمہارا؟“ انہوں نے عرض کی کہ میں حائضہ ہو گئی اور لوگ احرام کھول چکے اور میں نے نہ کھولا، نہ طواف کیا بیت اللہ کا اور لوگ اب حج کو چلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو ایک چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی سب لڑکیوں پر لکھ دی ہے سو تم غسل کرو (یعنی احرام کے لیے) اور احرام باندھو حج کا اور انہوں نے وہی کیا اور وقوف کیا وقوف کی جگہوں میں یہاں تک کہ جب طاہرہ ہوئیں تو طواف کیا بیت اللہ کا، صفا اور مروہ کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا احرام پورا ہو گیا حج اور عمرہ دونوں کا۔“ تو انہوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! میں اپنے دل میں ایک بات پاتی ہوں کہ میں نے طواف نہیں کیا جب تک حج سے فارغ نہ ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبدالرحمٰن! ان کو تنعیم میں لے جا کر عمرہ کرا لاؤ۔“ اور یہ معاملہ اس شب ہوا جب محصب میں ٹھہرے تھے۔