حدثني محمد بن حاتم ، حدثنا بهز ، حدثنا وهيب ، حدثنا عبد الله بن طاوس ، عن ابيه ، عن عائشة رضي الله عنها، انها اهلت بعمرة فقدمت ولم تطف بالبيت حتى حاضت فنسكت المناسك كلها وقد اهلت بالحج، فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم يوم النفر: " يسعك طوافك لحجك وعمرتك "، فابت، فبعث بها مع عبد الرحمن إلى التنعيم، فاعتمرت بعد الحج.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے احرام باندھا عمرہ کا اور آئیں اور طواف نہیں کیا تھا کہ حائضہ ہو گئیں۔ پھر سب مناسک حج ادا کیے حج کا احرام باندھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منٰی سے کوچ کے دن کہ ”تمہارا طواف حج اور عمرہ دونوں کو کافی ہو جائے گا۔“ انہوں نے اس بات سے اپنی خوشی ظاہر نہ کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن کے ساتھ بھیج دیا تنعیم کو کہ بعد حج کے عمرہ لائیں۔