كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، ومحمد بن المثنى ، وابن بشار جميعا، عن غندر ، قال ابن المثنى: حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة ، عن الحكم ، عن علي بن الحسين ، عن ذكوان مولى عائشة، عن عائشة رضي الله عنها انها قالت: قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم لاربع مضين من ذي الحجة او خمس، فدخل علي وهو غضبان، فقلت: من اغضبك يا رسول الله ادخله الله النار؟، قال: " اوما شعرت اني امرت الناس بامر، فإذا هم يترددون "، قال الحكم: كانهم يترددون، احسب، " ولو اني استقبلت من امري ما استدبرت، ما سقت الهدي معي حتى اشتريه، ثم احل كما حلوا "،

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کی چوتھی یا پانچویں کو آئے اور میرے پاس تشریف لائے غصہ میں بھرے ہوئے تھے میں نے عرض کی آپ کو کس نے غصہ دلایا؟ اے اللہ کے رسول! اس کو اللہ تعالیٰ دوزخ میں ڈالے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نہیں جانتی ہو کہ میں نے لوگوں کو ایک کام کا حکم دیا ہے اور وہ تردد کرتے ہیں۔ حکم (راوی) نے کہا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گویا وہ تامل کرتے ہیں اور فرمایا: اگر میں پہلے سے جانتا ہوتا اپنے کام کو جو میں نے بعد میں جانا تو ہدی کو اپنے ساتھ نہ لاتا (اس قول سے معلوم ہوا کہ انیاء علیہم السلام کو علم غیب نہیں) اور یہاں مکہ میں خرید لیتا اور ان لوگوں نے جیسا احرام کھول ڈالا ہے ویسا ہی میں بھی کھول ڈالتا۔

صحيح مسلم # 2931
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp