وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا ابن علية ، عن ابن عون ، عن إبراهيم ، عن الاسود ، عن ام المؤمنين . ح وعن القاسم ، عن ام المؤمنين ، قالت: قلت: يا رسول الله يصدر الناس بنسكين واصدر بنسك واحد، قال: " انتظري فإذا طهرت فاخرجي إلى التنعيم فاهلي منه "، ثم القينا عند كذا وكذا، قال: اظنه، قال: غدا ولكنها على قدر نصبك، او قال: نفقتك،
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! لوگ مکہ سے لوٹتے ہیں دو عبادتوں کے ساتھ (یعنی حج اور عمرہ جداگانہ کے ساتھ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ٹھہرو جب تم پاک ہو گئی تو تنعیم کو جانا اور لبیک پکارنا اور پھر ہم سے فلاں فلاں مقام میں ملنا، گمان کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کل کے روز اور ثواب تمہارے اس عمرہ کا تمہاری تکلیف اور خرچ کے موافق ہے۔“