كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وعمرو الناقد ، وزهير بن حرب جميعا، عن ابن عيينة ، قال عمرو: حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الرحمن بن القاسم ، عن ابيه ، عن عائشة رضي الله عنها، قالت: خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم ولا نرى إلا الحج حتى إذا كنا بسرف او قريبا منها حضت، فدخل علي النبي صلى الله عليه وسلم وانا ابكي، فقال: " انفست " يعني الحيضة، قالت: قلت: نعم، قال: " إن هذا شيء كتبه الله على بنات آدم، فاقضي ما يقضي الحاج، غير ان لا تطوفي بالبيت حتى تغتسلي "، قالت: وضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نسائه بالبقر.

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہم نکلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور خیال کرتے تھے مگر حج کا (اس لیے عمرہ، ایام حج میں برا جانتے تھے جہالت کے دونوں میں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیال کو مٹایا) جب سرف میں آئی میں حائضہ ہو گئی اور رونے لگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر پوچھا: کیا تم کو حیض ہوا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو آدم کی بیٹیوں کے لیے اللہ نے لکھ دیا ہے سو اب تم حج کے کام کرو سوائے طواف کے کہ وہ غسل کے بعد کرنا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیبیوں کی طرف سے قربانی کی گائے کی۔

صحيح مسلم # 2918
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp