كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

وحدثنا محمد بن بشار ، وابو بكر بن نافع ، قال ابن نافع: اخبرنا غندر ، حدثنا شعبة ، قال: سمعت ابا بشر يحدث، عن سعيد بن جبير ، انه سمع ابن عباس رضي الله عنهما، يحدث: " ان رجلا اتى النبي صلى الله عليه وسلم وهو محرم، فوقع من ناقته فاقعصته فامر النبي صلى الله عليه وسلم ان يغسل بماء وسدر، وان يكفن في ثوبين، ولا يمس طيبا، خارج راسه "، قال شعبة: ثم حدثني به بعد ذلك: " خارج راسه ووجهه، فإنه يبعث يوم القيامة ملبدا ".

‏‏‏‏ ابراہیم نے اپنے باپ سے روایت کی کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مسور بن محزمہ رضی اللہ عنہ میں تکرار ہوئی ابواء میں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: محرم سر دھوئے اور مسور نے کہا: نہیں تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کے پاس مجھے بھیجا کہ ان سے پوچھیں تو میں نے ان کو پایا کہ وہ کنوئیں کی دو لکڑیوں کے بیچ میں نہا رہے تھے اور وہ ایک کپڑے کی آڑ میں تھے اور میں نے ان سے سلام علیک کی اور انہوں نے پوچھا کہ کون ہے؟ میں نے کہا کہ میں عبداللہ بن حنین ہوں اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے کہ میں پوچھوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام میں کیسے سر دھوتے تھے؟ پس سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ کپڑے پر رکھے اور سر جھکایا یہاں تک کہ مجھے نظر آیا اور اس آدمی سے کہا جو ان پر پانی ڈالتا تھا کہ ڈالو پھر وہ اپنے سر کو ہلاتے تھے اور اپنے ہاتھ سے ملتے تھے آگے اور پیچھے، پھر کہا میں نے ایسے ہی دیکھا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔

صحيح مسلم # 2899
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp