وحدثنا ابو الربيع الزهراني ، حدثنا حماد ، عن عمرو بن دينار ، وايوب ، عن سعيد بن جبير ، عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: بينما رجل واقف مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بعرفة إذ وقع من راحلته، قال ايوب: فاوقصته، او قال: فاقعصته، وقال عمرو: فوقصته، فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال: " اغسلوه بماء وسدر، وكفنوه في ثوبين، ولا تحنطوه ولا تخمروا راسه "، قال ايوب: " فإن الله يبعثه يوم القيامة ملبيا "، وقال عمرو: " فإن الله يبعثه يوم القيامة يلبي "،
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے وہی مضمون اوپر کا بیان کر کے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سر منڈا ڈالو اور ایک ٹوکرا غلہ چھ مسکیینوں کو بانٹ دو۔“ اور ٹوکرا تین صاع کا ہے (اور صاع کی تحقیق کتاب الزکوٰۃ میں گزری ہے) یا تین روزے رکھو یا ایک قربانی کرو (ابن ابی نجیح کی روایت میں ہے کہ ایک بکری ذبح کرو)۔