وحدثناه إسحاق بن إبراهيم ، وعلي بن خشرم ، قالا: اخبرنا عيسى بن يونس ، حدثنا ابن جريج ، اخبرني زيد بن اسلم بهذا الإسناد، وقال: فامر ابو ايوب بيديه على راسه جميعا على جميع راسه، فاقبل بهما وادبر، فقال المسور لابن عباس: لا اماريك ابدا.
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس کھڑے تھے اور میرے سر میں سے جو ئیں گر رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کو جو ئیں ستاتی ہیں؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سر منڈا ڈالو۔“ اور یہ آیت «فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ» میرے حق میں اتری پھر مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین روزے رکھو یا ایک ٹوکرا خیرات دو یعنی غلہ بھر کر چھ مساکین کو یا قربانی کرو جو میسر ہو۔“