كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

وحدثنا صالح بن مسمار السلمي ، حدثنا معاذ بن هشام ، حدثني ابي ، عن يحيى بن ابي كثير ، حدثني عبد الله بن ابي قتادة ، قال: انطلق ابي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الحديبية، فاحرم اصحابه ولم يحرم، وحدث رسول الله صلى الله عليه وسلم ان عدوا بغيقة فانطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: فبينما انا مع اصحابه يضحك بعضهم إلى بعض، إذ نظرت فإذا انا بحمار وحش فحملت عليه فطعنته فاثبته، فاستعنتهم فابوا ان يعينوني، فاكلنا من لحمه وخشينا ان نقتطع، فانطلقت اطلب رسول الله صلى الله عليه وسلم، ارفع فرسي شاوا واسير شاوا، فلقيت رجلا من بني غفار في جوف الليل، فقلت: اين لقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: تركته بتعهن وهو قائل السقيا، فلحقته فقلت: يا رسول الله إن اصحابك يقرءون عليك السلام ورحمة الله، وإنهم قد خشوا ان يقتطعوا دونك، انتظرهم فانتظرهم، فقلت: يا رسول الله إني اصدت ومعي منه فاضلة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم للقوم: " كلوا "، وهم محرمون.

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے حدیبیہ کے سال اور اصحاب رضی اللہ عنہم نے احرام باندھا تھا اور انہوں نے نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر لگی کہ دشمن غیقہ میں ہے اور آپ چلے اور سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اپنے یاروں کے ساتھ تھا کہ بعض لوگ میری طرف دیکھ کر ہنسنے لگے اور میں نے جو نظر کی تو میرے آگے ایک وحشی گدھا تھا اور میں نے اس پر حملہ کیا اور اس کو نیزہ مار کر روک دیا اور اپنے لوگوں سے مدد چاہی اور کسی نے (بسبب احرام کے) میری مدد نہ کہ پھر ہم نے اس کا گوشت کھایا اور خوف ہوا کہ ہم راہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چھوٹ نہ جائیں اس لیے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈتا چلا اور کبھی اپنے گھوڑے کو دوڑاتا اور کبھی قدم قدم چلاتا کہ ایک آدمی بنی غفار کا ملا اندھیری رات میں اور میں نے اس سے پوچھا کہ تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ملے؟ اس نے کہا کہ میں نے آپ کو (تعہن) میں چھوڑا ہے (نام ہے ایک مقام کا اور وہ پانی کی ایک نہر ہے سنتیا سے تین میل پر اور سقیا ایک گاؤں ہے مدینہ سے تین منزل مکہ کی راہ میں) اور وہ سقیا میں دوپہر کو ٹھہرنا چاہتے تھے غرض میں آپ سے ملا اور میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ کے اصحاب، آپ پر سلام اور رحمت بھیجتے ہیں اور ان کو خوف ہے کہ دشمن ان کو آپ سے دور کر کے کاٹ نہ ڈالے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا انتظار کیجئے، سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا انتظار کیا پھر میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے شکار کیا ہے اور اس میں سے کچھ میرے پاس بچا ہوا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ۔ اور وہ سب احرام باندھے ہوئے تھے۔

صحيح مسلم # 2854
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp