كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

حدثنا سعيد بن منصور ، وابو كامل جميعا، عن ابي عوانة، قال سعيد: حدثنا ابو عوانة ، عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر ، عن ابيه ، قال: سالت عبد الله بن عمر رضي الله عنهما عن الرجل يتطيب، ثم يصبح محرما، فقال: ما احب ان اصبح محرما انضخ طيبا، لان اطلي بقطران احب إلي من ان افعل ذلك، فدخلت على عائشة رضي الله عنها، فاخبرتها ان ابن عمر، قال: ما احب ان اصبح محرما انضخ طيبا لان اطلي بقطران، احب إلي من ان افعل ذلك، فقالت عائشة : " انا طيبت رسول الله صلى الله عليه وسلم عند إحرامه، ثم طاف في نسائه، ثم اصبح محرما ".

‏‏‏‏ محمد منتشر کے بیٹے نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ جو شخص خوشبو لگائے اور صبح کو احرام باندے تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں خوب نہیں جانتا کہ صبح کو احرام باندھوں ایسے حال میں کہ خوشبو جھاڑتا ہوں اور اگر میں ڈانبر اپنے اوپر مل لوں تو مجھے اس سے بہتر معلوم ہوتا ہے کہ میں خوشبو لگاؤں پھر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے یہ سب کہا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے خوشبو لگائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے احرام کے قریب اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سب بیبیوں سے صحبت کی پھر صبح احرام باندھا۔

صحيح مسلم # 2842
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp