حدثنا يحيى بن يحيى ، وخلف بن هشام ، وابو الربيع ، وقتيبة جميعا، عن حماد ، قال يحيى: اخبرنا حماد بن زيد، عن عمرو بن دينار ، عن طاوس ، عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: " وقت رسول الله صلى الله عليه وسلم لاهل المدينة ذا الحليفة، ولاهل الشام الجحفة، ولاهل نجد قرن المنازل، ولاهل اليمن يلملم، قال: فهن لهن ولمن اتى عليهن من غير اهلهن ممن اراد الحج والعمرة، فمن كان دونهن فمن اهله، وكذا فكذلك حتى اهل مكة يهلون منها ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میقات مقرر کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ اور اہل شام کے لیے حجفہ اور اہل نجد والوں کے لیے قرن اور اہل یمن کے لیے یلملم اور فر مایا:"یہ سب مقاتیں ان لوگوں کے لیے بھی ہیں جو ان ملکوں میں رہتے ہیں اور ان کے لیے بھی ہیں جو اور ملکوں سے وہاں آئیں جو حج کا ارادہ رکھتے ہوں یا عمرہ کا پھر جو ان میقاتوں کے اندر رہنے والے ہوں یعنی مکہ سے قریب تو وہ وہیں سے احرام باندھیں یہاں تک کہ اہل مکہ، مکہ سے اہلال پکاریں۔“