كِتَاب الْحَجِّ حج کے احکام و مسائل

حدثني زهير بن حرب ، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم . ح وحدثنا عبد بن حميد ، اخبرنا محمد بن بكر ، قالا: اخبرنا ابن جريج . ح وحدثنا علي بن خشرم واللفظ له، اخبرنا عيسى ، عن ابن جريج ، قال: اخبرني عطاء ، ان صفوان بن يعلى بن امية اخبره، ان يعلى كان يقول لعمر بن الخطاب رضي الله عنه: ليتني ارى نبي الله صلى الله عليه وسلم حين ينزل عليه، فلما كان النبي صلى الله عليه وسلم بالجعرانة، وعلى النبي صلى الله عليه وسلم ثوب قد اظل به عليه، معه ناس من اصحابه فيهم عمر، إذ جاءه رجل عليه جبة صوف متضمخ بطيب، فقال: يا رسول الله، كيف ترى في رجل احرم بعمرة في جبة بعد ما تضمخ بطيب؟ فنظر إليه النبي صلى الله عليه وسلم ساعة، ثم سكت فجاءه الوحي، فاشار عمر بيده إلى يعلى بن امية تعال، فجاء يعلى فادخل راسه فإذا النبي صلى الله عليه وسلم محمر الوجه، يغط ساعة ثم سري عنه، فقال: " اين الذي سالني عن العمرة آنفا "، فالتمس الرجل فجيء به، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " اما الطيب الذي بك فاغسله ثلاث مرات، واما الجبة فانزعها، ثم اصنع في عمرتك ما تصنع في حجك ".

‏‏‏‏ سیدنا یعلیٰ رضی اللہ عنہ ہمیشہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کرتے تھے کہ کبھی میں دیکھتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر وحی اترتی ہے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ایک کپڑے کا سایہ کیا گیا تھا اور آپ کے ساتھ چند صحابہ تھے کہ ان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے کہ ایک شخص آیا ایک کرتا پہنے ہوئے کہ اس میں خوشبو لگی ہوئی تھی اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ کا حکم کیا ہے؟ اس کے لیے جو احرام باندھے عمرہ کا ایک کرتے میں کہ اس میں خوشبو لگی ہو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف نظر کی تھوڑی دیر اور چپ ہو رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آئی اور اشارہ کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ہاتھ سے سیدنا یعلیٰ رضی اللہ عنہ کو کہ آؤ اور یعلیٰ آئے اور اپنا سر اندر کپڑے کے ڈالا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہو رہا ہے اور آپ لمبے لمبے سانس لے رہے ہیں پھر وہ کیفیت کھل گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہاں ہے وہ سائل جو مجھ سے عمرہ کا حکم ابھی پوچھتا تھا۔ پھر وہ ڈھونڈا گیا اور اس کو لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوشبو تو دھو ڈالو تین بار (کہ اثر نہ رہے) اور جبہ اتار دے اور باقی وہی کر اپنے عمرہ میں جو حج میں کرتا ہے۔

صحيح مسلم # 2800
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp