وحدثني محمد بن عبد الاعلى ، حدثنا المعتمر ، حدثنا عمارة بن غزية الانصاري ، قال: سمعت محمد بن إبراهيم يحدث، عن ابي سلمة ، عن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم اعتكف العشر الاول من رمضان، ثم اعتكف العشر الاوسط في قبة تركية على سدتها حصير، قال: فاخذ الحصير بيده فنحاها في ناحية القبة، ثم اطلع راسه فكلم الناس فدنوا منه، فقال: " إني اعتكفت العشر الاول التمس هذه الليلة، ثم اعتكفت العشر الاوسط، ثم اتيت فقيل لي: إنها في العشر الاواخر، فمن احب منكم ان يعتكف فليعتكف "، فاعتكف الناس معه، قال: " وإني اربئتها ليلة وتر، وإني اسجد صبيحتها في طين وماء "، فاصبح من ليلة إحدى وعشرين، وقد قام إلى الصبح فمطرت السماء فوكف المسجد، فابصرت الطين والماء، فخرج حين فرغ من صلاة الصبح، وجبينه وروثة انفه فيهما الطين والماء، وإذا هي ليلة إحدى وعشرين من العشر الاواخر.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف فرمایا عشرہ اول میں رمضان کے پھر اعتکاف فرمایا عشرہ اوسط میں ایک ترکی قبہ میں (اس سے کفار کی چیزون کا استعمال روا ہوا) کہ اس کے دروزے پر ایک حصیر لٹکا ہوا تھا (پردہ کے لیے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ حصیر اپنے ہاتھ سے ہٹایا اور ایک کونے میں قبہ کے کر دیا پھر اپنا سر نکالا اور لوگوں سے باتیں کیں اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک آ گئے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں عشرہ اول کا اعتکاف کرتا ہوں اور اس رات کو ڈھونڈھتا تھا پھر میں نے عشرہ اوسط کا اعتکاف کیا پھر میرے پاس کوئی آیا (یعنی فرشتہ) اور مجھ سے کہا گیا کہ وہ عشرہ اخیر میں ہے پھر جو چاہے تم میں سے وہ پھر اعتکاف کرے۔“ یعنی عشرہ اخیر میں بھی معتکف رہے پھر لوگ معتکف رہے اور فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ”مجھے دکھایا گیا کہ وہ طاق راتوں میں ہے اور میں اس کی صبح کو پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اکیسویں شب کی صبح ہوئی اور اس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح تک نماز پڑھتے رہے اور رات کو مینہ برسا اور مسجد ٹپکی اور میں نے دیکھا مٹی اور پانی کو پھر جب صبح کی نماز پڑھ کر نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک کے بانسے پر مٹی اور پانی کا نشان تھا اور وہ رات اکیسویں تھی اور عشرہ اخیر کی رات تھی۔