كِتَاب الصِّيَامِ روزوں کے احکام و مسائل

وحدثنا يحيى بن يحيى التميمي ، وقتيبة بن سعيد جميعا، عن حماد ، قال يحيى: اخبرنا حماد بن زيد، عن غيلان ، عن عبد الله بن معبد الزماني ، عن ابي قتادة : رجل اتى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: كيف تصوم؟، " فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم "، فلما راى عمر رضي الله عنه غضبه، قال: رضينا بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد نبيا، نعوذ بالله من غضب الله، وغضب رسوله فجعل عمر رضي الله عنه يردد هذا الكلام حتى سكن غضبه، فقال عمر: يا رسول الله، كيف بمن يصوم الدهر كله؟، قال: " لا صام ولا افطر "، او قال: " لم يصم ولم يفطر "، قال: كيف من يصوم يومين، ويفطر يوما؟، قال: " ويطيق ذلك احد "، قال: كيف من يصوم يوما، ويفطر يوما؟، قال: " ذاك صوم داود عليه السلام "، قال: كيف من يصوم يوما، ويفطر يومين؟، قال: " وددت اني طوقت ذلك "، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ثلاث من كل شهر، ورمضان إلى رمضان، فهذا صيام الدهر كله، صيام يوم عرفة احتسب على الله ان يكفر السنة التي قبله، والسنة التي بعده، وصيام يوم عاشوراء، احتسب على الله ان يكفر السنة التي قبله ".

‏‏‏‏ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی کہ ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور عرض کیا کہ آپ کیونکر رکھتے ہیں روزہ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے (یعنی اس لیے کہ یہ سوال بے موقع تھا۔ اس کو لازم تھا کہ یوں پوچھتا کہ میں روزہ کیونکر رکھوں) پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ دیکھا تو عرض کرنے لگے: «رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِہم» راضی ہوئے اللہ تعالیٰ کے معبود ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر اور پناہ مانگتے ہیں ہم اللہ اور اس کے رسول کے غصہ سے۔ غرض سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بار بار ان کلمات کو کہتے تھے یہاں تک کہ غصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھم گیا پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! جو ہمیشہ روزہ رکھے وہ کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ افطار کیا۔ پھر کہا جو دو دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے وہ کیسا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسی طاقت کس کو ہے۔ یعنی اگر طاقت ہو تو خوب ہے پھر کہا: جو ایک دن روزہ رکھے ایک دن افطار کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ روزہ ہے داؤد علیہ السلام کا، پھر کہا: جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آرزو رکھتا ہوں کہ مجھے اتنی طاقت ہو۔ یعنی یہ خوب ہے اگر طاقت ہو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین روزے ہر ماہ میں اور رمضان کے روزے ایک رمضان کے بعد دوسرے رمضان تک یہ ہمیشہ کا روزہ ہے یعنی ثواب میں اور عرفہ کے دن کا روزہ ایسا ہے کہ میں امیدوار ہوں اللہ پاک سے کہ ایک سال اگلے اور ایک سال پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو جائے اور عاشورے کے روزہ سے امید رکھتا ہوں ایک سال اگلے کا کفارہ ہو جائے۔

صحيح مسلم # 2746
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp