كِتَاب الصِّيَامِ روزوں کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا غندر ، عن شعبة . ح وحدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن زياد بن فياض ، قال: سمعت ابا عياض ، عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال له: " صم يوما ولك اجر ما بقي "، قال: إني اطيق اكثر من ذلك، قال: " صم يومين ولك اجر ما بقي "، قال: إني اطيق اكثر من ذلك، قال: " صم ثلاثة ايام ولك اجر ما بقي "، قال: إني اطيق اكثر من ذلك، قال: " صم اربعة ايام ولك اجر ما بقي "، قال: إني اطيق اكثر من ذلك، قال: " صم افضل الصيام عند الله، صوم داود عليه السلام، كان يصوم يوما ويفطر يوما ".

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ایک دن روزہ رکھو اور تم کو دوسرے دنوں کا بھی ثواب ہے۔ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو دن روزہ رکھو اور تم کو باقی دنوں کا بھی ثواب ہے۔ انہوں نے پھر کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین دن روزہ رکھو اور تم کو باقی دنوں کا ثواب ہے۔ اور انہوں نے کہا کہ میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار دن روزہ رکھو اور تم کو باقی دنوں کا بھی ثواب ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب روزوں سے افضل روزہ رکھو اور وہ اللہ کے نزدیک صوم داؤد علیہ السلام ہے کہ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔

صحيح مسلم # 2742
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp