وحدثني محمد بن رافع ، حدثنا عبد الرزاق ، اخبرنا ابن جريج ، اخبرني عمرو بن دينار ، ان عمرو بن اوس اخبره، عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما، ان النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " احب الصيام إلى الله صيام داود، كان يصوم نصف الدهر، واحب الصلاة إلى الله عز وجل صلاة داود عليه السلام، كان يرقد شطر الليل، ثم يقوم ثم يرقد آخره، يقوم ثلث الليل بعد شطره "، قال: قلت لعمرو بن دينار: اعمرو بن اوس كان يقول يقوم ثلث الليل بعد شطره؟، قال: نعم.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ میں پیارا روزہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے کہ وہ آدھے زمانہ میں روزہ رکھتے تھے اور سب میں پیاری نماز ان کی نماز ہے کہ وہ آدھی رات تک پہلے سو جاتے تھے اور پھر اٹھتے تھے اور اخیر میں پھر سو جاتے تھے اور آدھی رات کے بعد جو اٹھتے تو ثلث شب تک نماز پڑھتے۔“ ابن جریج راوی نے کہا کہ میں پوچھا عمر بن دینار سے، یہ ان کے شیخ ہیں اس روایت میں کہ کیا عمرو بن اوس نے یہ کہا کہ ”پھر جاگتے تھے اور نماز پڑھتے تھے تہائی رات تک آدھی رات کے بعد؟“ تو انہوں نے کہا: کہ ہاں۔