كِتَاب الصِّيَامِ روزوں کے احکام و مسائل

وحدثني محمد بن رافع ، حدثنا عبد الرزاق ، اخبرنا ابن جريج ، قال: سمعت عطاء يزعم، ان ابا العباس اخبره، انه سمع عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما، يقول: بلغ النبي صلى الله عليه وسلم اني اصوم اسرد واصلي الليل فإما ارسل إلي وإما لقيته، فقال: " الم اخبر انك تصوم ولا تفطر، وتصلي الليل فلا تفعل، فإن لعينك حظا، ولنفسك حظا، ولاهلك حظا، فصم وافطر، وصل ونم، وصم من كل عشرة ايام يوما، ولك اجر تسعة "، قال: إني اجدني اقوى من ذلك يا نبي الله، قال: " فصم صيام داود عليه السلام "، قال: وكيف كان داود يصوم يا نبي الله؟، قال: " كان يصوم يوما ويفطر يوما، ولا يفر إذا لاقى "، قال: من لي بهذه يا نبي الله؟، قال: " عطاء "، فلا ادري كيف ذكر صيام الابد، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " لا صام من صام الابد، لا صام من صام الابد، لا صام من صام الابد "،

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی کہ میں برابر روزے رکھے جا رہا ہوں اور ساری رات نماز پڑھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو میرے پاس بھیجا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے خبر لگی ہے کہ تم برابر روزے رکھتے ہو اور بیچ میں افطار نہیں کرتے اور ساری رات نماز پڑھتے ہو تو ایسا مت کرو کہ اس لیے کہ تمہاری آنکھوں کا بھی کچھ حصہ ہے اور تمہاری ذات کا بھی حصہ ہے اور تمہاری بی بی کا بھی، سو تم روزہ رکھو اور افطار بھی کرو اور نماز بھی پڑھو، سوئے بھی رہو اور ہر دہے میں ایک روز روزہ رکھ لیا کرو کہ تم کو اس سے نو دن کا بھی ثواب ملے گا۔ تو میں نے عرض کیا کہ میں اپنے میں اس سے زیادہ قوت پاتا ہوں اے بنی اللہ تعالیٰ کے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھو۔ میں نے کہا: ان کا روزہ کیا تھا؟ اے نبی اللہ تعالیٰ کے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے اور جب دشمن کے مقابل ہوتے تو کبھی نہ بھاگتے۔ (یعنی جہاد سے) تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ دشمن سے نہ بھاگنا مجھے کہاں نصیب ہو سکتا ہے اے نبی اللہ تعالیٰ کے! (یعنی یہ بڑی قوت و شجاعت کی بات ہے) عطاء نے کہا: جو راوی حدیث ہیں کہ پھر میں نہیں جانتا کہ ہمیشہ روزوں کا ذکر کیوں آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے روزہ ہی نہیں رکھا (یعنی مطلق ثواب نہ پایا) جس نے ہمیشہ روزہ رکھا اس نے روزہ ہی نہیں رکھا۔

صحيح مسلم # 2734
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp