كِتَاب الصِّيَامِ روزوں کے احکام و مسائل

حدثنا إسحاق بن إبراهيم ، اخبرنا معاذ بن هشام ، حدثني ابي ، عن يحيى بن ابي كثير ، حدثنا ابو سلمة ، عن عائشة رضي الله عنها، قالت: " لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الشهر من السنة اكثر صياما منه في شعبان، وكان يقول: خذوا من الاعمال ما تطيقون، فإن الله لن يمل حتى تملوا، وكان يقول: احب العمل إلى الله، ما داوم عليه صاحبه، وإن قل ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ماہ میں سال بھر کے شعبان سے زیادہ روزے نہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے: اتنی ہی عبادت کرو جتنی تم میں طاقت ہے کہ اللہ پاک ثواب دینے سے نہیں تھکے گا اور تم عبادت کرتے کرتے تھک جاؤ گے اور فرماتے تھے: سب سے زیادہ پیارا کام اللہ پاک کے نزدیک وہ کام ہے جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ تھوڑا ہی ہو۔

صحيح مسلم # 2723
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp