وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وعمرو الناقد جميعا، عن ابن عيينة ، قال ابو بكر: حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابن ابي لبيد ، عن ابي سلمة ، قال: سالت عائشة رضي الله عن صيام رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: " كان يصوم حتى نقول: قد صام، ويفطر حتى نقول: قد افطر، ولم اره صائما من شهر قط اكثر من صيامه من شعبان، كان يصوم شعبان كله، كان يصوم شعبان إلا قليلا ".
سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے پوچھا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کیونکر رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت روزے رکھے اور اتنا افطار کرتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت افطار کیا اور میں نے ان کو جتنا شعبان میں روزے رکھتے دیکھا اتنا اور کسی ماہ میں نہیں دیکھا گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزے رکھتے تھے۔ پورے شعبان روزے رکھتے سوائے چند روز کے۔