كِتَاب الصِّيَامِ روزوں کے احکام و مسائل

وحدثنا عبيد الله بن معاذ ، حدثنا ابي ، حدثنا كهمس ، عن عبد الله بن شقيق ، قال: قلت لعائشة رضي الله عنها: اكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم شهرا كله؟، قالت: " ما علمته صام شهرا كله إلا رمضان، ولا افطره كله، حتى يصوم منه، حتى مضى لسبيله صلى الله عليه وسلم ".

‏‏‏‏ عبداللہ بن شقیق نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تھے کسی ماہ کے پورے دونوں کے؟ تو انہوں نے فرمایا: میں نہیں جانتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوا رمضان کے کسی ماہ کے پورے روزے رکھے ہوں اور نہ کوئی ماہ پورا افطار کیا جب تک کہ ایک دو روزے نہ رکھے ہوں اس میں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گلزار دنیا سے تشریف لے گئے (سلام ہو اللہ تعالیٰ کا اور رحمت ان پر)۔

صحيح مسلم # 2718
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp