كِتَاب الصِّيَامِ روزوں کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا خالد بن مخلد وهو القطواني ، عن سليمان بن بلال ، حدثني ابو حازم ، عن سهل بن سعد رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن في الجنة بابا، يقال له: الريان، يدخل منه الصائمون يوم القيامة، لا يدخل معهم احد غيرهم، يقال: اين الصائمون؟ فيدخلون منه، فإذا دخل آخرهم اغلق، فلم يدخل منه احد ".

‏‏‏‏ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک دروازہ ہے اسے ریان کہتے ہیں (یعنی سیراب کرنے والا) اس میں سے جائیں گے روزہ دار قیامت کے دن اور کوئی ان کے سوا اس میں سے نہ جانے پائے گا اور پکارا جائے گا کہ روزے دار کہاں ہیں؟ پھر وہ سب اس میں داخل ہو جائیں گے پھر جب ان میں کا اخیر آدمی بھی داخل ہو جائے گا وہ بند ہو جائے گا پھر کوئی اس میں نہ جائے گا۔

صحيح مسلم # 2710
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp