كِتَاب الصِّيَامِ روزوں کے احکام و مسائل

وحدثنا وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا ابو معاوية ، ووكيع ، عن الاعمش . ح وحدثنا زهير بن حرب ، حدثنا جرير ، عن الاعمش . ح وحدثنا ابو سعيد الاشج واللفظ له، حدثنا وكيع ، حدثنا الاعمش ، عن ابي صالح ، عن ابي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " كل عمل ابن آدم يضاعف الحسنة عشر امثالها إلى سبعمائة ضعف، قال الله عز وجل: " إلا الصوم فإنه لي، وانا اجزي به، يدع شهوته وطعامه من اجلي، للصائم فرحتان: فرحة عند فطره، وفرحة عند لقاء ربه، ولخلوف فيه اطيب عند الله من ريح المسك ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہہر عمل آدمی کا دونا ہوتا ہے۔ اس طرح کہ ایک نیکی دس تک ہو جاتی ہے یہاں تک کہ سات سو تک بڑھتی ہے اور اللہ عزوجل نے فرمایا ہے کہ مگر روزہ سو وہ خاص میرے لیے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دیتا ہوں اس لیے کہ بندہ میرا اپنی خواہشیں اور کھانا میرے لیے چھوڑ دیتا ہے اور روزہ دار کو دو خوشیاں ہیں ایک خوشی اس کے افطار کے وقت، دوسری خوشی ملاقات پروردگار کے وقت اور البتہ بو روزہ دار کے منہ کی اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے بوئے مشک سے۔

صحيح مسلم # 2707
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp