كِتَاب الصِّيَامِ روزوں کے احکام و مسائل

وحدثني احمد بن عمر الوكيعي ، حدثنا حسين بن علي ، عن زائدة ، عن سليمان ، عن مسلم البطين ، عن سعيد بن جبير ، عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله إن امي ماتت وعليها صوم شهر افاقضيه عنها؟، فقال: " لو كان على امك دين اكنت قاضيه عنها؟، قال: نعم، قال: فدين الله احق ان يقضى "، قال سليمان : فقال الحكم ، وسلمة بن كهيل جميعا: ونحن جلوس حين حدث مسلم بهذا الحديث، فقالا: سمعنا مجاهدا يذكر هذا، عن ابن عباس .

‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میری ماں مر گئی ہے اور اس پر ایک ماہ کے روزے ہیں۔ کیا میں اس کی قضا رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو تم ادا کرتے یا نہیں؟ - اس نے کہا: ہاں ادا کرتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ کا قرض تو ضرور ادا کرنا چاہیے۔ اور سلیمان نے کہا کہ حکم اور سلمہ بن کہیل دونوں نے کہا کہ ہم بیٹھے ہوئۓ تھے جب یہ حدیث بیان کی مسلم نے تو ان دونوں نے کہا: سنا ہم نے مجاہد سے کہ بیان کرتے تھے یہی روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے۔

صحيح مسلم # 2694
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp