كِتَاب الصِّيَامِ روزوں کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا عبد الله بن نمير . ح وحدثنا ابن نمير واللفظ له، حدثنا ابي ، حدثنا عبيد الله ، عن نافع ، اخبرني عبد الله بن عمر رضي الله عنهما: ان اهل الجاهلية كانوا يصومون يوم عاشوراء، وان رسول الله صلى الله عليه وسلم صامه والمسلمون قبل ان يفترض رمضان، فلما افترض رمضان، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن عاشوراء يوم من ايام الله، فمن شاء صامه، ومن شاء تركه "،

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اہل جاہلیت عاشورے کو روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رکھا اور مسلمان بھی رمضان فرض ہونے سے پہلے رکھتے تھے پھر جب رمضان فرض ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عاشورہ اللہ تعالیٰ کے دنوں میں سے ایک دن ہے جو چاہے اس میں روزہ رکھے جو چاہے چھوڑ دے۔

صحيح مسلم # 2642
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp