كِتَاب الصِّيَامِ روزوں کے احکام و مسائل

حدثنا قتيبة بن سعيد ، ومحمد بن رمح جميعا، عن الليث بن سعد ، قال ابن رمح، اخبرنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب ، ان عراكا اخبره، ان عروة اخبره، ان عائشة اخبرته: ان قريشا كانت تصوم عاشوراء في الجاهلية، ثم امر رسول الله صلى الله عليه وسلم بصيامه، حتى فرض رمضان، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من شاء فليصمه ومن شاء فليفطره ".

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ قریش عاشورے کو روزہ رکھتے تھے جاہلیت میں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حکم فرمایا اس کے روزے کا یہاں تک کہ جب رمضان فرض ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چاہے اس میں روزہ رکھے جو چاہے افطار کرے۔

صحيح مسلم # 2641
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp