كِتَاب الصِّيَامِ روزوں کے احکام و مسائل

وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وابو كريب ، قالا: حدثنا ابن نمير ، عن هشام بهذا الإسناد، ولم يذكر في اول الحديث، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصومه، وقال في آخر الحديث: وترك عاشوراء فمن شاء صامه ومن شاء تركه، ولم يجعله من قول النبي صلى الله عليه وسلم، كرواية جرير.

‏‏‏‏ ہشام نے اس اسناد سے یہی روایت کی اور اول حدیث میں یہ نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشورے کا روزہ رکھتے تھے اور آخر میں یہ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورے کا روزہ چھوڑ دیا۔ پھر جس کا جی چاہے روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے چھوڑ دے اور اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نہیں ٹھہرایا جیسے جریر کی روایت میں تھا۔

صحيح مسلم # 2638
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp