كِتَاب الصِّيَامِ روزوں کے احکام و مسائل

حدثني محمد بن حاتم ، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي ، عن معاوية بن صالح ، عن ربيعة ، قال: حدثني قزعة ، قال: اتيت ابا سعيد الخدري رضي الله عنه وهو مكثور عليه، فلما تفرق الناس عنه، قلت: إني لا اسالك عما يسالك هؤلاء عنه، سالته عن الصوم في السفر، فقال: سافرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى مكة ونحن صيام، قال: فنزلنا منزلا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إنكم قد دنوتم من عدوكم، والفطر اقوى لكم "، فكانت رخصة فمنا من صام ومنا من افطر، ثم نزلنا منزلا آخر، فقال: " إنكم مصبحو عدوكم والفطر اقوى لكم، فافطروا "، وكانت عزمة فافطرنا، ثم قال: لقد رايتنا نصوم مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد ذلك في السفر.

‏‏‏‏ قزعہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان پر لوگوں کا ہجوم تھا پھر جب بھیڑ چھٹ گئی تو میں نے کہا: میں آپ سے وہ نہیں پوچھتا جو یہ لوگ پوچھتے تھے اور میں نے ان سے سفر میں روزے کا پوچھا انہوں نے فرمایا: سفر کیا ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کو اور ہم روزہ دار تھے پھر ایک منزل میں اترے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اب دشمن سے قریب ہو گئے اور افطار میں تمہاری قوت بہت زیادہ ہو گی۔ پس رخصت ہوئی افطار کی۔ تب بعض ہم میں سے روزہ دار تھے اور بعض مفطر۔ پھر ہم آگے کی منزل میں اترے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم صبح کو اپنے غنیم سے ملنے والے ہو تو افطار تمہاری قوت بڑھا دے گا سو تم سب افطار کرو۔ اور یہ فرمانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم قطعی تھا پھر ہم سب لوگوں نے افطار کیا پھر اس کے (یعنی بعد فراغ مقابلہ غنیم) ہم نے اپنے لشکر کو دیکھا کہ ہم روزہ رکھتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں۔

صحيح مسلم # 2624
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp