كِتَاب الصِّيَامِ روزوں کے احکام و مسائل

حدثني عمرو الناقد ، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم ، عن الجريري ، عن ابي نضرة ، عن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه، قال: " كنا نغزو مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان، فمنا الصائم ومنا المفطر، فلا يجد الصائم على المفطر، ولا المفطر على الصائم "، يرون ان من وجد قوة فصام فإن ذلك حسن، ويرون ان من وجد ضعفا فافطر، فإن ذلك حسن.

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم جہاد کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں اور کوئی ہم سے روزہ دار ہوتا اور کوئی صاحب افطار اور نہ «صائم» «مفطر» پر غصہ کرتا اور نہ «مفطر» «صائم» پر اور جانتے تھے کہ جس میں قوت ہو وہ روزہ رکھے یہ بھی خوب ہے اور جس میں ضعف ہو وہ افطار کرے یہ بھی خوب ہے۔

صحيح مسلم # 2618
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp