كِتَاب الصِّيَامِ روزوں کے احکام و مسائل

وحدثنا إسحاق بن إبراهيم ، اخبرنا جرير ، عن منصور ، عن مجاهد ، عن طاوس ، عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: " سافر رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان، فصام حتى بلغ عسفان، ثم دعا بإناء فيه شراب فشربه نهارا ليراه الناس، ثم افطر حتى دخل مكة، قال ابن عباس رضي الله عنهما: فصام رسول الله صلى الله عليه وسلم وافطر، فمن شاء صام، ومن شاء افطر ".

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: سفر کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں اور روزہ رکھا یہاں تک کہ عسفان میں پہنچے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگایا کہ اس میں کوئی پینے کی چیز تھی اور اس کو پیا دن کو تاکہ سب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھیں۔ پھر افطار کرتے رہے یہاں تک کہ مکہ میں پہنچے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ بھی رکھا اور افطار بھی کیا سو جس کی جی چاہے روزہ رکھے جس کا جی چاہے افطار کرے۔

صحيح مسلم # 2608
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp