حدثنا محمد بن رمح بن المهاجر ، اخبرنا الليث ، عن يحيى بن سعيد ، عن عبد الرحمن بن القاسم ، عن محمد بن جعفر بن الزبير ، عن عباد بن عبد الله بن الزبير ، عن عائشة رضي الله عنها، انها قالت: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: احترقت، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لم؟ "، قال: وطئت امراتي في رمضان نهارا، قال: " تصدق تصدق "، قال ما عندي شيء، " فامره ان يجلس "، فجاءه عرقان فيهما طعام، " فامره رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يتصدق به "،
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور کہا کہ میں جل گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں؟“ اس نے عرض کی کہ میں نے جماع کیا رمضان شریف میں اپنی عورت سے دن کو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ دے، صدقہ دے۔“ اس نے عرض کی کہ میرے پاس تو کچھ موجود نہیں ہے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو گونیاں آئیں کھانے کو (یعنی غلہ یا کھجور کی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لے یہ صدقہ کر دے۔“