حدثنا يحيى بن ايوب ، وقتيبة ، وابن حجر ، قال ابن ايوب: حدثنا إسماعيل بن جعفر ، اخبرني عبد الله بن عبد الرحمن وهو ابن معمر بن حزم الانصاري ابو طوالة ، ان ابا يونس مولى عائشة اخبره، عن عائشة رضي الله عنها، ان رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم يستفتيه، وهي تسمع من وراء الباب، فقال: يا رسول الله تدركني الصلاة وانا جنب افاصوم؟، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " وانا تدركني الصلاة وانا جنب فاصوم، فقال: لست مثلنا يا رسول الله قد غفر الله لك ما تقدم من ذنبك وما تاخر، فقال: والله إني لارجو ان اكون اخشاكم لله، واعلمكم بما اتقي ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دروازے کی اوٹ سے سنتی تھیں۔ غرض اس نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! مجھے نماز کا وقت آ جاتا ہے اور میں جنبی ہوتا ہوں کیا میں روزہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بھی نماز کا وقت آ جاتا ہے اور میں جنبی ہوتا ہوں، پھر میں روزہ رکھتا ہوں۔“ اس نے عرض کی کہ آپ اور ہم برابر نہیں ہیں اے اللہ کے رسول! اس لیے کہ اللہ پاک نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اللہ کی! میں امید رکھتا ہوں کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ ہوں جاننے والا ان چیزوں کا جن سے بچنا ضروری ہے۔“ (غرض اس سائل کو یہ گمان ہوا کہ شاید یہ حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ یہ حکم مجھ کو، تم کو، سب کو برابر ہے اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بندہ کسی حالت میں تکلیف شرعی سے اور لوازم عبدیت سے باہر نہیں ہو سکتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے کہ ”میں امید رکھتا ہوں۔“ یہ کمال عبدیت ہے ورنہ واقع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ ایسا ہی ہے کہ سارے جہاں سے اعلم واتفیٰ ہیں)۔