كِتَاب الصِّيَامِ روزوں کے احکام و مسائل

حدثني هارون بن سعيد الايلي ، حدثنا ابن وهب ، اخبرني عمرو وهو ابن الحارث ، عن عبد ربه ، عن عبد الله بن كعب الحميري ، ان ابا بكر حدثه، ان مروان ارسله إلى ام سلمة رضي الله عنها يسال عن الرجل يصبح جنبا ايصوم؟، فقالت " كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصبح جنبا من جماع، لا من حلم، ثم لا يفطر ولا يقضي ".

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکر بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ مروان نے ان کو بھیجا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف کہ پوچھیں کہ جو شخص صبح کرے جنابت میں آیا وہ روزہ رکھے یا نہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت میں صبح کرتے تھے جماع کے سبب سے نہ کہ احتلام سے اور پھر نہ افطار کرتے تھے اور نہ قضا کرتے تھے (یعنی روزہ کو صحیح جانتے تھے۔)

صحيح مسلم # 2591
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp