حدثني محمد بن حاتم ، حدثنا يحيى بن سعيد ، عن ابن جريج . ح وحدثني محمد بن رافع واللفظ له، حدثنا عبد الرزاق بن همام ، اخبرنا ابن جريج ، اخبرني عبد الملك بن ابي بكر بن عبد الرحمن ، عن ابي بكر ، قال: سمعت ابا هريرة رضي الله عنه يقص يقول في قصصه " من ادركه الفجر جنبا فلا يصم "، فذكرت ذلك لعبد الرحمن بن الحارث لابيه، فانكر ذلك، فانطلق عبد الرحمن وانطلقت معه، حتى دخلنا على عائشة ، وام سلمة رضي الله عنهما، فسالهما عبد الرحمن عن ذلك، قال: فكلتاهما قالت: " كان النبي صلى الله عليه وسلم يصبح جنبا من غير حلم ثم يصوم "، قال فانطلقنا حتى دخلنا على مروان، فذكر ذلك له عبد الرحمن، فقال مروان: " عزمت عليك إلا ما ذهبت إلى ابي هريرة، فرددت عليه ما يقول "، قال: فجئنا ابا هريرة، وابو بكر حاضر ذلك كله، قال: فذكر له عبد الرحمن، فقال ابو هريرة: " اهما قالتاه لك؟ " قال: " نعم " قال: " هما اعلم "، ثم رد ابو هريرة ما كان يقول في ذلك إلى الفضل بن العباس، فقال ابو هريرة: " سمعت ذلك من الفضل، ولم اسمعه من النبي صلى الله عليه وسلم "، قال: فرجع ابو هريرة عما كان يقول في ذلك، قلت لعبد الملك: " اقالتا في رمضان؟ " قال: " كذلك كان يصبح جنبا من غير حلم، ثم يصوم ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی روایتوں میں کہتے تھے کہ جس کو فجر ہو جائے حالت جنابت میں وہ روزہ نہ رکھے۔ سو میں نے (یہ مقولہ ہے ابوبکر بن عبدالرحمٰن کا) عبدالرحمٰن سے کہا: جو میرے باپ تھے انہوں نے اس کا انکار کیا اور ہم دونوں (یعنی ابوبکر اور عبدالرحمٰن) سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہن کے پاس گئے اور عبدالرحمٰن نے ان سے پوچھا: تو دونوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت جنابت میں صبح ہو جاتی تھی اور پھر روزہ رکھتے تھے اور جنابت بغیر احتلام کے ہوتی تھی (اس لیے کہ انبیاء کو احتلام نہیں ہوتا یعنی صحبت سے بیبیوں کے جنابت ہوتی ہے) کہا ابوبکر نے پھر ہم گئے مروان کے پاس اور عبدالرحمٰن نے ان سے ذکر کیا۔ سو مروان نے کہا: میں تم کو قسم کو دیتا ہوں کہ تم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان کی بات کا جواب دے دو پھر ہم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ابوبکر ان سب باتوں میں حاضر تھا اور ذکر کیا عبدالرحمٰن نے تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ان دونوں بیبیوں نے فرمایا تم سے؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بیشک وہ اور لوگوں سے زیادہ جانتی ہیں پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس قول کی نسبت فضل بن عباس کی طرف کی اور کہا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے یہ بات فضل سے سنی تھی تو اس کو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا۔ غرض سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس بات سے رجوع کیا جو وہ اس مسئلہ میں کہا کرتے تھے پھر میں نے (یہ مقولہ ہے ابن جریج کا) عبدالملک سے کہا کہ کیا ان دونوں بیبیوں نے رمضان کے روزے کو کہا؟ انہوں نے کہا کہ ایسا فرمایا بیبیوں نے کہ صبح ہوتی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت جنابت میں بغیر احتلام کے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے تھے۔