كِتَاب الصِّيَامِ روزوں کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا علي بن مسهر ، وعباد بن العوام ، عن الشيباني ، عن ابن ابي اوفى رضي الله عنه، قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر، فلما غابت الشمس، قال لرجل: " انزل فاجدح لنا "، فقال: يا رسول الله لو امسيت، قال: " انزل فاجدح لنا "، قال: إن علينا نهارا، فنزل فجدح له، فشرب ثم قال: " إذا رايتم الليل قد اقبل من ها هنا، واشار بيده نحو المشرق، فقد افطر الصائم "،

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے وہی مضمون مروی ہے مگر اتنا فرق ہے کہ انہوں نے عرض کی کہ اگر آپ شام ہونے دیں تو خوب ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر میں فرمایا: ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کر کے کہ جب رات کو دیکھو کہ ادھر آئی تو افطار کر چکا صائم۔

صحيح مسلم # 2560
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp