كِتَاب الصِّيَامِ روزوں کے احکام و مسائل

وحدثنا يحيى بن يحيى ، اخبرنا هشيم ، عن ابي إسحاق الشيباني ، عن عبد الله بن ابي اوفى رضي الله عنه، قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر في شهر رمضان، فلما غابت الشمس، قال: " يا فلان انزل فاجدح لنا "، قال: يا رسول الله إن عليك نهارا، قال: " انزل فاجدح لنا "، قال: فنزل فجدح فاتاه به، فشرب النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال بيده: " إذا غابت الشمس من ها هنا، وجاء الليل من ها هنا فقد افطر الصائم ".

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے سفر میں، رمضان کی مہینے میں، پھر جب آفتاب ڈوبا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فلانے! اترو اور ہمارے لئے ستو گھولو۔ انہوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! ابھی آپ پر دن ہے (یعنی ان صحابی رضی اللہ عنہ کو یہ خیال ہوا کہ جب غروب کے بعد جو سرخی ہے وہ جاتی ہے دن جاتا ہے حالانکہ یہ غلط ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: اتر (یعنی اونٹ پر سے) اور ہمارے لئے ستو گھولو۔ پھر وہ اترے اور ستو گھولے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پئیے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا: جب سورج ڈوب جائے اس طرف کو (یعنی مغرب میں) اور آ جائے رات اس طرف سے (یعنی مشرق سے) پس روزہ کھل چکا صائم کا۔

صحيح مسلم # 2559
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp