وحدثنا ابن نمير ، حدثنا ابو خالد يعني الاحمر ، عن سليمان التيمي بهذا الإسناد، غير انه قال: " إن الفجر ليس الذي يقول هكذا وجمع اصابعه، ثم نكسها إلى الارض، ولكن الذي يقول هكذا، ووضع المسبحة على المسبحة ومد يديه "،
سلیمان تیمی سے اس اسناد سے مروی ہے وہی روایت جو اوپر گزری مگر اس میں ایسا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فجر وہ نہیں ہے جو ایسی ہو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب انگلیوں کو جمع کیا اور ان کو زمین کی طرف جھکایا (یعنی جو روشنی اوپر سے نیچے کو آئے وہ صبح صادق نہیں ہے) بلکہ صبح صادق وہ ہے جو ایسی ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمہ کی انگلی پر انگلی رکھی اور دونوں ہاتھوں کو پھیلایا (یعنی اشارہ کیا کہ آسمان کے کناروں میں پھیلے)۔