كِتَاب الصِّيَامِ روزوں کے احکام و مسائل

حدثنا يحيى بن يحيى ، ومحمد بن رمح ، قالا: اخبرنا الليث . ح وحدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا ليث ، عن ابن شهاب ، عن سالم بن عبد الله ، عن عبد الله رضي الله عنه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، انه قال: " إن بلالا يؤذن بليل، فكلوا واشربوا، حتى تسمعوا تاذين ابن ام مكتوم ".

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ بلال رات کو اذان دیتے ہیں (تاکہ تہجد پڑھنے والے کھانے کو جائیں اور سحری سے فارغ ہو جائیں) سو تم کھاتے پیتے رہا کرو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو۔ (اور وہ نابینا تھے جب لوگ کہتے کہ صبح ہوئی صبح ہوئی تب اذان دیتے)۔

صحيح مسلم # 2536
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp