كِتَاب الصِّيَامِ روزوں کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا عبد الله بن إدريس ، عن حصين ، عن الشعبي ، عن عدي بن حاتم رضي الله عنه، قال: لما نزلت حتى يتبين لكم الخيط الابيض من الخيط الاسود من الفجر سورة البقرة آية 187، قال له عدي بن حاتم: يا رسول الله إني اجعل تحت وسادتي عقالين: عقالا ابيض وعقالا اسود، اعرف الليل من النهار، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن وسادتك لعريض، إنما هو سواد الليل، وبياض النهار ".

‏‏‏‏ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب یہ آیت اتری «َ(حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ» (البقرۃ: ۱۸۷) یعنی کھاتے پیتے رہو جب تک کہ ظاہر ہو جائے سفید دھاگہ کالے دھاگے سے صبح کے۔ تو سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! میں اپنے تکیہ کے نیچے دو رسیاں رکھتا ہوں ایک سفید ایک کالی اسی سے میں پہچان لیتا ہوں رات کو دن سے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا تکیہ تو بہت چوڑا ہے (مزاح کی راہ سے فرمایا کہ اتنا چوڑا ہے کہ صبح اسی کے نیچے سے ہوتی ہے) اس آیت میں تو سیاہی رات کی اور سفیدی دن کی مراد ہے۔

صحيح مسلم # 2533
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp