حدثنا عبد بن حميد ، اخبرنا عبد الرزاق ، اخبرنا معمر ، عن الزهري ، ان النبي صلى الله عليه وسلم اقسم ان لا يدخل على ازواجه شهرا، قال الزهري: فاخبرني عروة ، عن عائشة رضي الله عنها، قالت: لما مضت تسع وعشرون ليلة اعدهن، دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم، قالت: بدا بي، فقلت: يا رسول الله إنك اقسمت ان لا تدخل علينا شهرا وإنك دخلت من تسع وعشرين اعدهن، فقال: " إن الشهر تسع وعشرون ".
زہری رحمہ اللہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ اپنی بیبیوں کے پاس نہ آئیں گے ایک ماہ تک۔ زہری نے کہا: پھر خبر دی مجھ کو عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی زبانی کہ انہوں نے فرمایا: جب انتیس روز گزرے اور میں شمار کرتی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ پہلے میرے پاس تشریف لائے (اور یہ فخریہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا اور اس میں کمال محبت رسول اللہ کی ان کے ساتھ ثابت ہوئی) پھر میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ ہمارے پاس نہ آئیں گے مہینہ بھر تک اور آپ انتیسویں ہی دن تشریف لائے اور میں دن شمار کر رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس کا بھی تو ہوتا ہے۔“