حدثنا هارون بن معروف ، حدثنا ابن وهب ، اخبرني يونس بن يزيد ، عن ابن شهاب ، عن عبد الله بن الحارث بن نوفل الهاشمي ، ان عبد المطلب بن ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب اخبره، ان اباه ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب، والعباس بن عبد المطلب، قالا لعبد المطلب بن ربيعة، وللفضل بن عباس: ائتيا رسول الله صلى الله عليه وسلم، وساق الحديث بنحو حديث مالك، وقال فيه: فالقى علي رداءه، ثم اضطجع عليه، وقال: انا ابو حسن القرم، والله لا اريم مكاني حتى يرجع إليكما ابناكما بحور ما بعثتما به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقال في الحديث: ثم قال لنا: " إن هذه الصدقات إنما هي اوساخ الناس، وإنها لا تحل لمحمد ولا لآل محمد "، وقال ايضا، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ادعوا لي محمية بن جزء وهو رجل من بني اسد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم استعمله على الاخماس.
عبدالمطلب بن ربیعہ نے کہا کہ ان کے باپ ربیعہ اور عباس بن عبدالمطلب دونوں نے عبدالمطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس سے کہا کہ تم دونوں جاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور حدیث بیان کی جیسے اوپر گزری اور اس میں یوں ہے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر بچھائی اور لیٹ رہے اور کہا کہ میں باپ ہوں حسن رضی اللہ عنہ کا اور سید ہوں قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ اس جگہ سے نہ جاؤں گا جب تک تمہارے بیٹے نہ لوٹیں تمہاری بات کا جواب لے کر جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہلا بھیجی ہے، پھر ہمارے لیے یہ فرمایا: ”یہ میل ہے لوگوں کی اور یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جائز نہیں۔“ اور فرمایا: ”بلاؤ میرے پاس محمیہ بن جزء کو۔“ اور وہ ایک آدمی تھے قبیلہ بنی اسد کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تحصیلدار کیا تھا خمسوں پر۔