حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير ، وعبد الله بن سعيد الاشج ، جميعا، عن وكيع ، قال الاشج: حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش ، عن خيثمة ، عن سويد بن غفلة ، قال: قال علي : إذا حدثتكم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فلان اخر من السماء احب إلي من ان اقول عليه ما لم يقل، وإذا حدثتكم فيما بيني وبينكم، فإن الحرب خدعة، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " سيخرج في آخر الزمان قوم احداث الاسنان، سفهاء الاحلام، يقولون من خير قول البرية، يقرءون القرآن لا يجاوز حناجرهم، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية، فإذا لقيتموهم فاقتلوهم، فإن في قتلهم اجرا لمن قتلهم عند الله يوم القيامة "،
سوید بن غفلہ نے کہا کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب میں تم سے روایت کروں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تو اگر میں آسمان سے گر پڑوں تو اس سے بہتر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ بات باندھوں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمائی اور جب میں تمہارے اور اپنے بیچ میں کچھ بات کروں تو جان لو کہ لڑائی میں حیلہ اور فریب روا (جائز) ہے اب سنو کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اخیر زمانہ میں ایک قوم نکلے گی کہ ان کے لوگ کمسن ہوں گے اور کم عقل بات سب مخلوقات سے اچھی کہیں گے اور قرآن ایسا پڑھیں گے کہ ان کے گلوں سے نیچے نہ اترے گا اور دین سے ایسا نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پھر جب تم ان سے ملو تو ان کو مارو اس لیے کہ ان کے مارنے سے تم کو قیامت کے دن اللہ کے پاس سے ثواب ملے گا۔“