كِتَاب الزَّكَاةِ زکاۃ کے احکام و مسائل

وحدثني محمد بن المثنى ، حدثنا ابن ابي عدي ، عن سليمان ، عن ابي نضرة ، عن ابي سعيد ، ان النبي صلى الله عليه وسلم ذكر قوما، يكونون في امته يخرجون في فرقة من الناس سيماهم التحالق، قال: " هم شر الخلق او من اشر الخلق، يقتلهم ادنى الطائفتين إلى الحق "، قال: فضرب النبي صلى الله عليه وسلم لهم مثلا، او قال: قولا الرجل يرمي الرمية، او قال الغرض فينظر في النصل فلا يرى بصيرة، وينظر في النضي فلا يرى بصيرة، وينظر في الفوق فلا يرى بصيرة، قال: قال ابو سعيد: وانتم قتلتموهم يا اهل العراق.

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم کا ذکر کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہو گی اور وہ لوگ نکلیں گے جبکہ لوگوں میں پھوٹ ہو گی اور نشانی ان کی سر منڈانا ہو گی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ وہ بدترین خلق ہیں قتل کریں گے ان کو وہ لوگ دونوں گروہوں میں سے جو نزدیک ہوں گے حق کے۔ (اور وہ گروہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا تھا) اور ان کی ایک مثال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی یا ایک بات کہی کہ آدمی جب تیر مارتا ہے شکار کو یا فرمایا: نشانہ کو اور نظر کرتا ہے بھال کو تو اس میں کچھ اثر نہیں دیکھتا اور نظر کرتا ہے تیر کی لکڑی میں تو کچھ اثر نہیں دیکھتا اور نظر کرتا ہے تیر کی لکڑی میں چٹکی میں رہتا ہے تو کچھ اثر نہیں پاتا ہے۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عراق والو! تم ہی نے تو ان کو قتل کیا ہے (یعنی سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہو کر)۔

صحيح مسلم # 2457
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp